بدھ، 7 اکتوبر، 2026

چل دئے تم کہاں وصل کا امکاں لے کر

چل دئے تم کہاں  وصل کا امکاں لے کر

گھر بنتے نہیں ہیں فقط اک مکاں لے کر

 

جب راتوں کو نیند نہ آئے اور دل گھبرائے

تو میری گلی چلے آنا دلِ پریشاں لے کر

 

پھر آگئے ہو میری قبر کی خاک اڑائے

کیا تمہیں چین نہ ملا میری جاں لے کر

 

بہاروں میں بھی ہیں بے آبرو شجر

دل کا سودا کیا میں نے خزاں لے کر

 

مہ خانے میں بھی وہ لطف نہ ملا تو پھر

آدرش جاؤ گے تم دل کو کہاں لے کر

ہفتہ، 4 جنوری، 2014

جمعرات، 14 فروری، 2013

پیر، 3 دسمبر، 2012

جمعرات، 25 اکتوبر، 2012